Skip to content

ان کہی کو کہی بنانا ہے

ان کہی کو کہی بنانا ہے
اعتبار سخن بڑھانا ہے

میرے اندر کا پانچواں موسم
کس نے دیکھا ہے کس نے جانا ہے

ڈگڈگی ہی نہیں بجانی مجھے
عشق کو ناچ بھی سکھانا ہے

تم جو اتنا اٹھا رہے ہو مجھے
کس کنویں میں مجھے گرانا ہے

رات کو روز ڈوب جاتا ہے
چاند کو تیرنا سکھانا ہے

ہجر میں نیند کیوں نہیں آتی
ہجر کا زائچہ بنانا ہے

میں وہ بوسیدہ قبر ہوں بیدلؔ
دفن جس میں مرا زمانہ ہے