Skip to content

یہ جو چہروں پہ لئے گرد الم آتے ہیں

یہ جو چہروں پہ لئے گرد الم آتے ہیں
یہ تمہارے ہی پشیمان کرم آتے ہیں

اتنا کھل کر بھی نہ رو جسم کی بستی کو بچا
بارشیں کم ہوں تو سیلاب بھی کم آتے ہیں

تو سنا تیری مسافت کی کہانی کیا ہے
میرے رستے میں تو ہر گام پہ خم آتے ہیں

خول چہروں پہ چڑھانے نہیں آتے ہم کو
گاؤں کے لوگ ہیں ہم شہر میں کم آتے ہیں

وہ تو بیدلؔ کوئی سوکھا ہوا پتا ہوگا
تیرے آنگن میں کہاں ان کے قدم آتے ہیں