Skip to content

یہ دل جو مضطرب رہتا بہت ہے

یہ دل جو مضطرب رہتا بہت ہے
کوئی اس دشت میں تڑپا بہت ہے

کوئی اس رات کو ڈھلنے سے روکے
مرا قصہ ابھی رہتا بہت ہے

بہت ہی تنگ ہوں آنکھوں کے ہاتھوں
یہ دریا آج کل بہتا بہت ہے

بوقت شام اکٹھے ڈوبتے ہیں
دل اور سورج میں یارانہ بہت ہے

بہت ہی راس ہے صحرا لہو کو
کہ صحرا میں لہو اگتا بہت ہے

مبارک اس کو اس کے تر نوالے
مجھے سوکھا ہوا ٹکڑا بہت ہے

بیاض اس واسطے خالی ہے میری
مجھے افلاس نے بیچا بہت ہے

بتوں کا نام بھی پڑھتا ہے بیدلؔ
خدا کا نام بھی لیتا بہت ہے