Skip to content

مری داستان الم تو سن کوئی زلزلہ نہیں آئے گا

مری داستان الم تو سن کوئی زلزلہ نہیں آئے گا
مرا مدعا نہیں آئے گا ترا تذکرہ نہیں آئے گا

کئی گھاٹیوں پہ محیط ہے مری زندگی کی یہ رہ گزر
تری واپسی بھی ہوئی اگر تجھے راستہ نہیں آئے گا

اگر آئے دشت میں جھیل تو مجھے احتیاط سے پھینکنا
کہ میں برگ خشک ہوں دوستو مجھے تیرنا نہیں آئے گا

اگر آئے دن تری راہ میں تری کھوج میں تری چاہ میں
یوں ہی قافلے جو لٹا کئے کوئی قافلہ نہیں آئے گا

کہیں انتہا کی ملامتیں کہیں پتھروں سے اٹی چھتیں
ترے شہر میں مرے بعد اب کوئی سر پھرا نہیں آئے گا

کوئی انتظار کا فائدہ مرے یار بیدلؔ غمزدہ
تجھے چھوڑ کر جو چلا گیا نہیں آئے گا نہیں آئے گا