Skip to content

رہنے دے رتجگوں میں پریشاں مزید اسے

رہنے دے رتجگوں میں پریشاں مزید اسے
لگنے دے ایک اور بھی ضرب شدید اسے

جی ہاں وہ اک چراغ جو سورج تھا رات کا
تاریکیوں نے مل کے کیا ہے شہید اسے

فاقے نہ جھگیوں سے سڑک پر نکل پڑیں
آفت میں ڈال دے نہ یہ بحران عید اسے

فرط خوشی سے وہ کہیں آنکھیں نہ پھوڑ لے
آرام سے سناؤ سحر کی نوید اسے

ہر چند اپنے قتل میں شامل وہ خود بھی تھا
پھر بھی گواہ مل نہ سکے چشم دید اسے

بازار اگر ہے گرم تو کرتب کوئی دکھا
سب گاہکوں سے آنکھ بچا کر خرید اسے

مدت سے پی نہیں ہے تو پھر فائدہ اٹھا
وہ چل کے آ گیا ہے تو کر لے کشید اسے

مشکوک اگر ہے خط کی لکھائی تو کیا ہوا
جعلی بنا کے بھیج دے تو بھی رسید اسے